‎چلاس ....

دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں تھور کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنے نے شدت اختیار کر لی ہے۔ دھرنے کی وجہ سے شاہراہِ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

‎​گزشتہ کئی گھنٹوں سے جاری اس بندش کے باعث شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔راولپنڈی سے گلگت اور گلگت سے راولپنڈی جانے والی سینکڑوں مسافر گاڑیاں، جن میں بسیں، کوسٹرز اور نجی کاریں شامل ہیں، چلاس اور تھور کے مقامات پر پھنسی ہوئی ہیں ۔محصور مسافروں میں خواتین، بچے، بوڑھے اور مریض شامل ہیں جو بنیادی سہولیات (خوراک اور پانی) کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

‎​اشیائے خوردونوش اور ایندھن لے جانے والے ٹرکوں کی بڑی تعداد بھی راستے میں رک گئی ہے، جس سے خطے میں سپلائی کی کمی کا خدشہ پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

‎​ڈیم متاثرین کا مؤقف ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام نے ان کے معاوضوں کی ادائیگی اور دیگر حل طلب مسائل پر کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، جس کی وجہ سے وہ احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ کی جانب سے ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

‎​مقامی ذرائع کے مطابق انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان اب تک مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ مسافروں نے حکومتِ پاکستان اور گلگت بلتستان انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راستہ کھلوائیں تاکہ پھنسے ہوئے لوگ اپنی منزلوں تک پہنچ سکیں۔